منگل 8 ستمبر 2026 - 14:02
نظام ولایت سے وابستگی، اصلاح نفس اور حسین سے وفاداری ہی مکتبِ عاشوراء کا بنیادی پیغام ہے: آغا سید مجتبیٰ عباس موسوی الصفوی

حوزہ/انجمنِ شرعی شیعیانِ جموں و کشمیر کے اہتمام سے امام باڑہ مدین صاحب، حول سرینگر میں عظیم الشان سالانہ مجلسِ حسینیؑ کا انعقاد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں عزادارانِ امام حسینؑ اور عقیدت مندوں نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انجمنِ شرعی شیعیانِ جموں و کشمیر کے اہتمام سے امام باڑہ مدین صاحب، حول سرینگر میں عظیم الشان سالانہ مجلسِ حسینیؑ کا انعقاد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں عزادارانِ امام حسینؑ اور عقیدت مندوں نے شرکت کی۔

مجلس سے انجمنِ شرعی شیعیان کے جنرل سیکریٹری حجت الاسلام مولانا سید مجتبیٰ عباس موسوی الصفوی نے خطاب کرتے ہوئے واقعۂ کربلا کے پیغام، توفیق الٰہی، اصلاح نفس، ولایت اہل بیتؑ اور حق پر استقامت کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ انسان کی حقیقی کامیابی اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی رضا کے حصول میں مضمر ہے۔

نظام ولایت سے وابستگی، اصلاح نفس اور حسین سے وفاداری ہی مکتبِ عاشوراء کا بنیادی پیغام ہے: مولانا سید مجتبیٰ عباس

انہوں نے کہا کہ نیکی انجام دینے، برائی سے اجتناب کرنے اور صراط مستقیم پر ثابت قدم رہنے کے لیے انسان کو مسلسل اللہ تعالیٰ سے توفیق طلب کرنی چاہیے۔ محض نیک ارادے کافی نہیں بلکہ ان ارادوں کو عملی زندگی میں تبدیل کرنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ واقعۂ عاشورا محض ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ حق و باطل کے درمیان تمیز، اصلاح، قربانی، وفاداری اور استقامت کا دائمی منشور ہے۔ امام حسینؑ نے اپنے قیام کے ذریعے امت کو یہ واضح پیغام دیا کہ جب باطل اور ظلم کے مقابلے میں حق کو خطرہ لاحق ہو تو مؤمن کا فرض ہے کہ وہ حق کا ساتھ دے اور نتائج کی پروا کیے بغیر اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہے۔

مولانا سید مجتبیٰ عباس نے اصحاب امام حسینؑ کی بے مثال وفاداری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کربلا کے شہداء نے اپنے عہد کو آخری لمحے تک نبھایا اور یہ ثابت کیا کہ ایمان اور ولایت صرف زبانی دعوے نہیں بلکہ امتحان کے وقت عملی وفاداری کا تقاضا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کربلا ہر دور کے انسان کو اپنے ایمان، کردار، عہد اور عملی زندگی کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

نظام ولایت سے وابستگی، اصلاح نفس اور حسین سے وفاداری ہی مکتبِ عاشوراء کا بنیادی پیغام ہے: مولانا سید مجتبیٰ عباس

انہوں نے عزاداری کے مقصد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مجالس عزاء صرف غم و اندوہ کے اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ اصلاح نفس، بیداری فکر اور کردار حسینیؑ کی پیروی کا وسیلہ ہونی چاہئیں۔

انہوں نے عزاداران پر زور دیا کہ وہ امام حسینؑ کی محبت کو اپنی عبادات، اخلاق، معاملات اور معاشرتی کردار میں ظاہر کریں اور اپنی زندگی کو قرآن کریم، سیرت رسول اکرم ؐ اور تعلیمات اہل بیتؑ کے مطابق ڈھالیں۔

جنرل سیکریٹری انجمنِ شرعی شیعیان نے موجودہ دور میں بڑھتے ہوئے فکری اور اخلاقی انحرافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شیطان انسان کو صراط مستقیم سے دور کرنے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کرتا ہے، اس لیے مؤمن کو بیدار، باشعور اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ولایت امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے وابستگی صراط مستقیم پر استقامت کا بنیادی ذریعہ ہے اور حقیقی پیرو ولایت وہی ہے جو اپنے کردار اور عمل سے اس وابستگی کا ثبوت پیش کرے۔

انہوں نے کہا کہ مکتب حسینؑ ظلم، جبر، باطل اور انحراف کے سامنے خاموشی اختیار کرنے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ حق، عدل اور اصولوں کے لیے قربانی اور استقامت کا درس دیتا ہے۔

انہوں نے شب عاشورا میں امام حسینؑ اور ان کے اصحاب کی عبادت، تلاوت قرآن اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اہل کربلا نے انتہائی مشکل حالات میں بھی اپنے رب سے تعلق کو کمزور نہیں ہونے دیا، جو اہل ایمان کے لیے عظیم عملی نمونہ ہے۔

مولانا سید مجتبیٰ عباس نے کہا کہ آج کے دور میں کربلا کے پیغام کو سمجھنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔ مسلمان اگر قرآن، ولایت اہل بیتؑ، تقویٰ، اتحاد اور حق پر استقامت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تو معاشرے میں موجود بہت سے فکری، اخلاقی اور سماجی مسائل کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

نظام ولایت سے وابستگی، اصلاح نفس اور حسین سے وفاداری ہی مکتبِ عاشوراء کا بنیادی پیغام ہے: مولانا سید مجتبیٰ عباس

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حسینیؑ بننے کا تقاضا صرف امام حسینؑ کا نام لینا نہیں بلکہ حسینؑ کے مقصد، کردار اور اصولوں کو اپنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر فرد کو اپنے اعمال اور رویوں کا جائزہ لیتے ہوئے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کی زندگی مکتب حسینؑ کے پیغام سے کس حد تک ہم آہنگ ہے۔

مجلس کے اختتام پر اسلام و مسلمین کی سربلندی، کشمیر اور عالم انسانیت میں امن و سلامتی، امت مسلمہ کے اتحاد اور شہدائے کربلا کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha